8 ستمبر، 2026، 8:38 AM

جنوبی سعودی عرب میں دھماکوں کی آوازیں، آرامکو تنصیبات پر حملے کا امکان

جنوبی سعودی عرب میں دھماکوں کی آوازیں، آرامکو تنصیبات پر حملے کا امکان

ابہا، خمیس مشیط اور جیزان کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، غیر سرکاری ذرائع نے یمنی مسلح افواج کی جانب سے آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا دعوی کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ان دھماکوں کی اصل وجہ اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں سعودی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کے جنوبی علاقے عسیر کے مختلف مقامات، خصوصاً ابہا اور خمیس مشیط، کے علاوہ جیزان میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

یمنی نشریاتی ادارے المسیرہ نے رپورٹ کیا کہ مذکورہ علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں، تاہم ان کے ذرائع کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب بعض غیر سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ یہ دھماکے یمن کی مسلح افواج کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر ممکنہ حملے کے نتیجے میں ہوئے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

اگر آرامکو کی تنصیبات پر حملے کی اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ چند گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے ان علاقوں میں ہونے والا دوسرا مبینہ حملہ ہوگا۔

اس سے قبل برطانوی اخبار فائننشیل ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی آرامکو کی جیزان میں واقع تیل کی تنصیبات کو ایک نئے حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ واقعہ اس حملے کے تقریباً ایک ماہ بعد پیش آیا جس کے نتیجے میں علاقے میں آرامکو کی ریفائنری کی پیداوار عارضی طور پر متاثر ہوئی تھی۔

اخبار نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پیر کے روز آرامکو کے تیل سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا اور نقصانات کا اندازہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے حملے کا حجم گزشتہ ماہ ہونے والے حملے کے تقریباً برابر بتایا جا رہا ہے۔

فائننشیل ٹائمز کے مطابق جیزان یمن کی سرحد کے قریب سعودی عرب کا اہم صنعتی مرکز ہے اور ماضی میں بھی اسے یمنی حوثی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ علاقے میں قائم آرامکو کی ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً 4 لاکھ بیرل ہے، جو سعودی عرب کی بڑی ریفائنریوں میں شمار ہوتی ہے۔ جیزان میں تیل سے متعلق دیگر تنصیبات اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی موجود ہے۔

آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سابقہ حملوں کے نتیجے میں کمپنی کی تیل کی پیداوار میں کچھ خلل پڑا، تاہم ان کا کمپنی کے بنیادی آپریشنز یا مالی صورتحال پر کوئی بنیادی اثر نہیں پڑا۔

News ID 1941217

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha